آج کے دور میں جہاں لوگ "ہیلو"، "ہائے" یا "گڈ مارننگ" جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہاں "السلام علیکم" کہنا ہمیں ہماری جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے۔ یہ سلام نہ صرف مسلمانوں کے درمیان محبت پیدا کرتا ہے بلکہ رحمت، برکت اور امن کی علامت بھی ہے۔
اسلام نے سلام کے کچھ آداب بھی سکھائے ہیں جن پر عمل کرنا ضروری ہے:
لفظ "السلام" اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے، جس کا مطلب ہے "محفوظ کرنے والا" اور "سلامتی دینے والا"۔ جب ہم کسی مسلمان سے "السلام علیکم" کہتے ہیں، تو ہم دراصل یہ دعا کرتے ہیں کہ "تم پر اللہ کی سلامتی، امن اور رحمت نازل ہو۔" یہ صرف ایک سلام نہیں، بلکہ ایک ایسا عہد ہے کہ میری طرف سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ asalam walekum in urdu
"وَإِذَا حُيِّيتُم بِالتَّحِيَّةِ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا" (اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا اسی کے برابر کہو۔)
اسلم ولكم (Asalam Walekum) کی اہمیت اس سے زیادہ ہے کہ یہ صرف ایک سلام ہے۔ یہ ایک طرز فکر اور ایک طرز زندگی ہے جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ہارمونی اور محبت کے ساتھ جینے کی ترغیب دیتی ہے. Hamein chahiye ke hum ghar main, bahar, har
جب کوئی آپ کو سلام کرے تو آپ کو اس سے بہتر یا اسی کے برابر جواب دینا چاہیے۔ قرآن میں ہے:
"Asalam Walekum" mehraz chand alfaz nahi hain balkay yeh ek azemat dua hai. Yeh dilon mein muhabbat peda karta hai. Hamein chahiye ke hum ghar main, bahar, har jagah sab se pehle salam karein. Hamein chahiye ke hum ghar main
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے۔" (سلام کرنا بھی اسی خواہش کا اظہار ہے۔) ایک اور حدیث میں ہے: